بنگلورو، 9 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک میں سیاسی ناٹک کا ’دی اینڈ‘ جلد ہی ہونے والاہے، ایسا محسوس نہیں ہوتا۔کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر رمیش کمار نے صاف صاف کہہ دیا کہ ان کے دفتر کو اب تک 13 اراکین اسمبلی کے استعفے ملے ہیں، جس میں صرف پانچ کے فارمیٹ ٹھیک ہیں۔ یعنی ابھی باقی 8 کو دوبارہ استعفیٰ دینا ہوگا۔اسپیکر نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے گورنر کو خط بھی لکھا ہے۔ جن 5 ممبران اسمبلی نے درست فارمیٹ میں استعفی دیا ہے ان میں سے 3 ممبر اسمبلی آنند سنگھ، پرتاپ گوڑا اور نارائن گوڑا کو 12 جولائی کو باقی 2 راملنگا ریڈی اور گوپالییا کو 15 جولائی کو اسپیکر نے ملنے بلایا ہے۔اس سے صاف ہے کہ اسپیکر کے اس اقدام سے ریاست کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو کافی وقت مل گیا ہے۔ اب اتنے وقت میں ناراض ممبران اسمبلی کو منانے میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے رہنما کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں یہ قابلِ دید ہوگا۔ آج کانگریس نے پارٹی اراکین کی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں ممبئی میں مقیم ممبران اسمبلی کے علاوہ 9 ممبر اسمبلی غیر موجود رہے۔ ان میں سے 7 ممبران اسمبلی نے پہلے ہی نہ آنے کی وجہ بتا دیا تھا جبکہ راملنگا ریڈی غائب رہے۔ خانا پور کی ممبر اسمبلی انجلی نمبالکر بھی پارٹی اراکین کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئی، اس کے بعد ان کے استعفیٰ کی بھی قیاس آرائی زور پکڑ رہی ہیں۔پارٹی اراکین کی میٹنگ کے بعد کانگریس کے تمام لیڈر اسمبلی احاطے میں بنی مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے جمع ہوئے اور بی جے پی پر اپنے ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کا الزام لگاتے ہوئے مظاہرہ کیا۔کرناٹک کی مخلوط حکومت میں وزیر ضمیر احمد خان نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ان کے ممبران اسمبلی کو اغوا کیا ہے اور ہر ممبر اسمبلی پر 2 سے 3 لوگ پہرہ دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان ممبران اسمبلی سے کانگریس کے لیڈر رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔اس احتجاج کے بعد کانگریس نے اسپیکر سے ملاقات کی اور انہیں ایک پیٹشن دے کر یہ اپیل کی کہ راملنگا ریڈی کو چھوڑ کر کانگریس کے باقی تمام باغی ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ آئین کے قوانین کے مطابق انہیں 6 سال کے لئے سیاست بدر کردینا چاہیے۔